Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ان پہ خود عاشق ہے ناصح اور ہمیں سمجھائے ہے

ضامن جعفری

ان پہ خود عاشق ہے ناصح اور ہمیں سمجھائے ہے

ضامن جعفری

MORE BYضامن جعفری

    ان پہ خود عاشق ہے ناصح اور ہمیں سمجھائے ہے

    بس یہی باتیں ہیں جن سے آگ سی لگ جائے ہے

    پاؤں کیوں پٹخے ہے اتنے کیوں مجھے دہلائے ہے

    کون ہے جو میری جانب سے تجھے بھڑکائے ہے

    چیٹ کی ونڈو میں وہ سب سے کرے ہے گفتگو

    ہم جب آویں ہیں دریچہ چھوڑ کر ہٹ جائے ہے

    بات بے بات اس کو کچھ چڑنے کی عادت سی بھی ہے

    کچھ چڑانے میں اسے ہم کو مزہ بھی آئے ہے

    دشمن جانی ہے وہ یہ میں بھی جانوں ہوں مگر

    جب نظر آوے ہے ظالم اک غزل ہو جائے ہے

    چپ رہے ہے دیکھ کر وہ اضطراب دل مرا

    مسکرا دیوے ہے بس سو دل بھی دھوکا کھائے ہے

    اک نظر لے تو بھی ناصح دیکھ لے تصویر یار

    پھر ذرا دیکھوں تجھے بھی کس طرح چین آئے ہے

    کیجیے اقرار الفت دیکھ کر ضامنؔ کا حال

    اک دفعہ ہاں کہہ دیا تھا آج تک پچھتائے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے