سب یہ سمجھے ہے چراغ روشنی قندیل میں
سب یہ سمجھے ہے چراغ روشنی قندیل میں
درحقیقت ہے نمایاں زندگی قندیل میں
شب کے سناٹے اجالوں کو نگل سکتے نہیں
صبح تک جلنے کی ہمت ہے ابھی قندیل میں
بجھ گیا ہو آندھیوں سے گر چراغ آشیاں
ڈھونڈیے پھر روشنی امید کی قندیل میں
حادثوں کی زد میں آ کر حوصلہ کھونا نہیں
ہے نظر تو دیکھ لو زندہ دلی قندیل میں
ہم تو سنتے تھے کہ کمروں سی گھٹن اس میں نہیں
دم سا کیوں گھٹنے لگا جب سانس لی قندیل میں
دیر تک میں چھاؤں میں اس پیڑ کی سوتا رہا
جس کی چھت پر جل رہی تھی زندگی قندیل میں
اپنی تنہائی سے آذرؔ تم گلہ کرنا نہیں
جانے کتنے گل کھلے ہیں اجنبی قندیل میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.