Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سب یہ سمجھے ہے چراغ روشنی قندیل میں

اقبال آذر

سب یہ سمجھے ہے چراغ روشنی قندیل میں

اقبال آذر

MORE BYاقبال آذر

    سب یہ سمجھے ہے چراغ روشنی قندیل میں

    درحقیقت ہے نمایاں زندگی قندیل میں

    شب کے سناٹے اجالوں کو نگل سکتے نہیں

    صبح تک جلنے کی ہمت ہے ابھی قندیل میں

    بجھ گیا ہو آندھیوں سے گر چراغ آشیاں

    ڈھونڈیے پھر روشنی امید کی قندیل میں

    حادثوں کی زد میں آ کر حوصلہ کھونا نہیں

    ہے نظر تو دیکھ لو زندہ دلی قندیل میں

    ہم تو سنتے تھے کہ کمروں سی گھٹن اس میں نہیں

    دم سا کیوں گھٹنے لگا جب سانس لی قندیل میں

    دیر تک میں چھاؤں میں اس پیڑ کی سوتا رہا

    جس کی چھت پر جل رہی تھی زندگی قندیل میں

    اپنی تنہائی سے آذرؔ تم گلہ کرنا نہیں

    جانے کتنے گل کھلے ہیں اجنبی قندیل میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے