Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ادھر غرور کے دیپک ادھر غضب کے چراغ

کاشف بیگ کاشف

ادھر غرور کے دیپک ادھر غضب کے چراغ

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    ادھر غرور کے دیپک ادھر غضب کے چراغ

    اندھیرا بانٹ رہے ہیں حسب نسب کے چراغ

    چراغ زیست کی کتنی بھی دیکھ بھال کرو

    ہوائے موت بجھا ڈالتی ہے سب کے چراغ

    سلام ان کو جو اس دور بد تمیزی میں

    جلا کے رکھے ہوئے ہیں ابھی ادب کے چراغ

    سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے

    لہٰذا بھولنے والے ہیں لوگ شب کے چراغ

    تمام شہر پہ چھائی ہوئی ہے خود غرضی

    محبتوں کے تو گل ہو چکے ہیں کب کے چراغ

    مرے دماغ میں جلتا ہے کوئی اور دیا

    کسی کے دل میں ہیں روشن مری طلب کے چراغ

    کہ اب سکوت کی ظلمت بہت ہوئی کاشفؔ

    چلو کہ کھول ہی دیتے ہیں آج لب کے چراغ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے