گزر رہا تھا میں دیے کی لو کے درمیان سے
گزر رہا تھا میں دیے کی لو کے درمیان سے
یہ پہلا رابطہ تھا میرا دوسرے جہان سے
خزاں کے گیان سے بدن تمام خشک ہو گیا
مگر چمن نمو بھی پا رہے ہیں میرے دھیان سے
خبر نہیں وہ آگ تھی کہ دو دلوں کی لاگ تھی
لگی تو گھر کے سارے خواب لے گئی مکان سے
سوائے خامشی کے حمد کا نہ تھا مجھے دماغ
جب ایک کہہ دیا تو دو نہیں کہا زبان سے
صدا بلند ہو یہاں تو آفتاب جاگ اٹھے
شعاع تیز رو سبک نہیں مری اذان سے
بالآخر ایک سائے نے اسے بھی عونؔ اچک لیا
ملا تھا جو چمکتا زر مجھے سیاہ کان سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.