Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گزر رہا تھا میں دیے کی لو کے درمیان سے

عون رضا

گزر رہا تھا میں دیے کی لو کے درمیان سے

عون رضا

MORE BYعون رضا

    گزر رہا تھا میں دیے کی لو کے درمیان سے

    یہ پہلا رابطہ تھا میرا دوسرے جہان سے

    خزاں کے گیان سے بدن تمام خشک ہو گیا

    مگر چمن نمو بھی پا رہے ہیں میرے دھیان سے

    خبر نہیں وہ آگ تھی کہ دو دلوں کی لاگ تھی

    لگی تو گھر کے سارے خواب لے گئی مکان سے

    سوائے خامشی کے حمد کا نہ تھا مجھے دماغ

    جب ایک کہہ دیا تو دو نہیں کہا زبان سے

    صدا بلند ہو یہاں تو آفتاب جاگ اٹھے

    شعاع تیز رو سبک نہیں مری اذان سے

    بالآخر ایک سائے نے اسے بھی عونؔ اچک لیا

    ملا تھا جو چمکتا زر مجھے سیاہ کان سے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے