بدلتی صورت حالات میں ڈھلنا ضروری ہے
بدلتی صورت حالات میں ڈھلنا ضروری ہے
چراغ وقت کو ہر حال میں جلنا ضروری ہے
کسی کے درد کو لفظوں میں بس لکھنا نہیں کافی
کبھی اس درد کے ہمراہ بھی چلنا ضروری ہے
میں اپنے شہر کی تنہائیوں سے یہ سمجھ پائی
خموشی سے محبت کے لئے جلنا ضروری ہے
ہوا کے رخ پہ چلنے سے کہاں پہچان بنتی ہے
خلاف موج طوفاں بھی یہاں چلنا ضروری ہے
جو اپنے آپ کو ہر روز بہتر کر نہیں پاتے
انہیں آئینہ لے کر ہاتھ میں چلنا ضروری ہے
جہاں ہر سمت پتھر دل رویے سر اٹھاتے ہوں
محبت کا وہاں پر پھولنا پھلنا ضروری ہے
یہ دنیا ایک دریا ہے ٹھہر جائے تو سڑتی ہے
دلوں کے درمیان احساس کا پلنا ضروری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.