اندھیری رات میں خود کو جلا کے دیکھتے ہیں
اندھیری رات میں خود کو جلا کے دیکھتے ہیں
نئے چراغ ہیں تیور ہوا کے دیکھتے ہیں
ستارے دور سے ان کو نظر نہیں آتے
ہر ایک شئے کو وہ نزدیک جا کے دیکھتے ہیں
مرا وجود ہے شفاف آئنے کی طرح
وہ دیکھتے ہیں تو چشمہ لگا کے دیکھتے ہیں
کسی کے عشق میں مٹ جانا بھی عبادت ہے
یہ بات سچ ہے تو خود کو مٹا کے دیکھتے ہیں
مرے خلوص پہ ان کو یقیں نہیں شاید
وہ سب کے سامنے مجھ کو بلا کے دیکھتے ہیں
دوا سے جو نہ ہوا کام وہ دعا نے کیا
دوا کے مارے کرشمے دعا کے دیکھتے ہیں
کئی دنوں سے فضائیں اداس ہیں مضطرؔ
چلو لباس میں خوشبو لگا کے دیکھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.