Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اندھیری رات میں خود کو جلا کے دیکھتے ہیں

مضطر اعظمی

اندھیری رات میں خود کو جلا کے دیکھتے ہیں

مضطر اعظمی

MORE BYمضطر اعظمی

    اندھیری رات میں خود کو جلا کے دیکھتے ہیں

    نئے چراغ ہیں تیور ہوا کے دیکھتے ہیں

    ستارے دور سے ان کو نظر نہیں آتے

    ہر ایک شئے کو وہ نزدیک جا کے دیکھتے ہیں

    مرا وجود ہے شفاف آئنے کی طرح

    وہ دیکھتے ہیں تو چشمہ لگا کے دیکھتے ہیں

    کسی کے عشق میں مٹ جانا بھی عبادت ہے

    یہ بات سچ ہے تو خود کو مٹا کے دیکھتے ہیں

    مرے خلوص پہ ان کو یقیں نہیں شاید

    وہ سب کے سامنے مجھ کو بلا کے دیکھتے ہیں

    دوا سے جو نہ ہوا کام وہ دعا نے کیا

    دوا کے مارے کرشمے دعا کے دیکھتے ہیں

    کئی دنوں سے فضائیں اداس ہیں مضطرؔ

    چلو لباس میں خوشبو لگا کے دیکھتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے