تم نے دیکھا کبھی نہیں چھت پر
تم نے دیکھا کبھی نہیں چھت پر
چاند لگتا ہے کیا حسیں چھت پر
نیند کو دفن کر دوں بستر میں
خواب رکھ دوں یہیں کہیں چھت پر
بوجھ سر کا اٹھا نہ پائے تو
رکھ دی چپ چاپ یہ جبیں چھت پر
میں اسے ڈھونڈتا ستاروں میں
وہ مجھے ڈھونڈتی کہیں چھت پر
صحن تک آ گئی ہے آبادی
سو گئی ہے کہیں زمیں چھت پر
وحشتیں آ گئی ہیں کمروں میں
اور رہنے لگے مکیں چھت پر
اس قدر بارشیں برسنے سے
کون کرتا ہے اب یقیں چھت پر
زندگی بوجھ بن گئی اظہرؔ
دفن کر دوں اسے یہیں چھت پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.