قطرے کو آپ دریا کا رتبہ نہ دیجیے
قطرے کو آپ دریا کا رتبہ نہ دیجیے
ذرے کو آفتاب کا درجہ نہ دیجیے
خوشیوں کی میں تلاش میں آیا ہوں گاؤں سے
پردیس میں غریب کو دھوکا نہ دیجیے
ایسا نہ ہو کہ بد دعا نکلے زبان سے
ماں کو یہ سوکھی روٹی کا ٹکڑا نہ دیجیے
ہم تم سے دور ہو گئے دل ٹوٹنے کے بعد
پیغام دوستی کا دوبارہ نہ دیجیے
سب دیکھتا ہے وہ جسے ہم دیکھتے نہیں
جھوٹا کبھی کسی کو بھروسہ نہ دیجیے
دل ٹوٹ جائے گا تو ملے گا نہ پھر حسنؔ
ترک تعلقات کا موقع نہ دیجیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.