سایۂ زلف میں اب دل کے ٹھکانے بھی نہیں
سایۂ زلف میں اب دل کے ٹھکانے بھی نہیں
سخت دور آئے مگر ایسے زمانے بھی نہیں
وہ عجب شوخ طبیعت ہے عجب شعلہ مزاج
چاہے بھی شرح وفا پھر اسے مانے بھی نہیں
ایک دھوکا ہے فقط اس کی رفاقت کیا ہے
جو مرے دل میں رہے اور مجھے جانے بھی نہیں
دیدہ و دل میں ہے تو دیدہ و دل سے روپوش
تجھ سے آگاہ ترے آئنہ خانے بھی نہیں
تو ہی بتلا یہ بھریں بھی تو بھلا کیسے بھریں
طنز کے زخم ہیں اور زخم پرانے بھی نہیں
معتبر ہو گئے اک حرف وفا کہہ کے ہی لوگ
یہی میں کہہ دوں تو شاید کوئی مانے بھی نہیں
اس کا انداز ملاقات ہی اب ہے کچھ اور
عہد و پیمان تو کیا حیلے بہانے بھی نہیں
کس طرح بات ہو اس جان غزل سے اقبالؔ
اب تو جز نذر غزل اور بہانے بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.