Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سایۂ زلف میں اب دل کے ٹھکانے بھی نہیں

اقبال صفی پوری

سایۂ زلف میں اب دل کے ٹھکانے بھی نہیں

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    سایۂ زلف میں اب دل کے ٹھکانے بھی نہیں

    سخت دور آئے مگر ایسے زمانے بھی نہیں

    وہ عجب شوخ طبیعت ہے عجب شعلہ مزاج

    چاہے بھی شرح وفا پھر اسے مانے بھی نہیں

    ایک دھوکا ہے فقط اس کی رفاقت کیا ہے

    جو مرے دل میں رہے اور مجھے جانے بھی نہیں

    دیدہ و دل میں ہے تو دیدہ و دل سے روپوش

    تجھ سے آگاہ ترے آئنہ خانے بھی نہیں

    تو ہی بتلا یہ بھریں بھی تو بھلا کیسے بھریں

    طنز کے زخم ہیں اور زخم پرانے بھی نہیں

    معتبر ہو گئے اک حرف وفا کہہ کے ہی لوگ

    یہی میں کہہ دوں تو شاید کوئی مانے بھی نہیں

    اس کا انداز ملاقات ہی اب ہے کچھ اور

    عہد و پیمان تو کیا حیلے بہانے بھی نہیں

    کس طرح بات ہو اس جان غزل سے اقبالؔ

    اب تو جز نذر غزل اور بہانے بھی نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے