Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ اس کے ہاتھ کو تھاما نہ لب کشائی کی

فیصل شہزاد

نہ اس کے ہاتھ کو تھاما نہ لب کشائی کی

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    نہ اس کے ہاتھ کو تھاما نہ لب کشائی کی

    کوئی بھی رسم ادا کی نہیں جدائی کی

    جو کہہ رہا تھا ذرا بچ کے سب منافق ہیں

    اسی نے پیٹھ کے پیچھے مری برائی کی

    ہم اپنی قید میں اس کو کہاں تلک رکھتے

    جسے خوشی تھی بہت عشق سے رہائی کی

    مرا وجود بھی بنجر زمین جیسا تھا

    سو آنسوؤں نے مرے زخم کی ترائی کی

    بھروسہ دے دیا بدلے میں ایک دوسرے کو

    عجیب رسم ہماری تھی منہ دکھائی کی

    تری نظر میں برے صرف ہم سہی لیکن

    ہمارے ساتھ بھلا تم نے کیا بھلائی کی

    جہاں پہ ہاتھ چھڑایا تھا تم نے فیصلؔ سے

    وہیں پہ چوڑیاں ٹوٹیں تری کلائی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے