نہ اس کے ہاتھ کو تھاما نہ لب کشائی کی
نہ اس کے ہاتھ کو تھاما نہ لب کشائی کی
کوئی بھی رسم ادا کی نہیں جدائی کی
جو کہہ رہا تھا ذرا بچ کے سب منافق ہیں
اسی نے پیٹھ کے پیچھے مری برائی کی
ہم اپنی قید میں اس کو کہاں تلک رکھتے
جسے خوشی تھی بہت عشق سے رہائی کی
مرا وجود بھی بنجر زمین جیسا تھا
سو آنسوؤں نے مرے زخم کی ترائی کی
بھروسہ دے دیا بدلے میں ایک دوسرے کو
عجیب رسم ہماری تھی منہ دکھائی کی
تری نظر میں برے صرف ہم سہی لیکن
ہمارے ساتھ بھلا تم نے کیا بھلائی کی
جہاں پہ ہاتھ چھڑایا تھا تم نے فیصلؔ سے
وہیں پہ چوڑیاں ٹوٹیں تری کلائی کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.