چہرہ تلاشتا ہوں میں جس مہربان کا
چہرہ تلاشتا ہوں میں جس مہربان کا
دشمن بنا ہوا ہے وہی میری جان کا
دیپک بھی بن نہ پایا وہ میرے مکان کا
سورج سمجھ رہا تھا جسے آسمان کا
میں عشق عشق پڑھتا رہا اشک اشک کو
اک مبتدی ہوں میں ابھی اردو زبان کا
وہ سن رہا ہے میری خموشی کو غور سے
یہ وقت ہے دراصل مرے امتحان کا
گھر کو اسی نے نیست و نابود کر دیا
حصہ جسے سمجھتا تھا اپنے مکان کا
ہم نے بنا لیا ہے جسے اپنا رازدار
سوچا نہیں تھا نکلے گا کچا وہ کان کا
کانٹا سمجھ کے مجھ سے نہ دامن بچایئے
میں بھی کبھی تھا پھول کسی پھول دان کا
یہ اور بات ہے کہ زمیں پر نہ چل سکے
ہم حوصلہ تو رکھتے ہیں دل میں اڑان کا
کل تک جو میرے ٹکڑوں پے پلتا رہا کبیرؔ
شجرہ وہ پوچھتا ہے مرے خاندان کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.