اس کے بن تیرگی سی رہتی ہے
اس کے بن تیرگی سی رہتی ہے
شمع محفل بجھی سی رہتی ہے
اک توجہ سے اس کی اس دل میں
مدتوں روشنی سی رہتی ہے
جب وہ کرتا ہے گفتگو ہم سے
نبض دوراں تھمی سی رہتی ہے
اس حسیں مشک بار لہجے میں
ایک خوشبو گھلی سی رہتی ہے
رات کے تیسرے پہر میں بھی
ایک کھڑکی کھلی سی رہتی ہے
اس کی نظروں کی مے کا کیا کہنا
بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
عشق کے سارے کھیل ختم ہوئے
اب طبیعت تھکی سی رہتی ہے
اب کہاں جا کے دل کو بہلائیں
دل پہ پژمردگی سی رہتی ہے
بادشاہ سخن کے شعروں میں
فکر و فن کی کمی سی رہتی ہے
آپ کے شعر میں ابو شبرؔ
اک تعلی چھپی سی رہتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.