کہیں ایسا نہ ہو الزام توہین بہار آئے
کہیں ایسا نہ ہو الزام توہین بہار آئے
بہاروں کا زمانہ ہم بیاباں میں گزار آئے
جب اٹھے سوگوار اٹھے جب آئے اشک بار آئے
یہ کیا کم تھا تری محفل میں دو لمحے گزار آئے
چمن میں رہ کے ہم نظم چمن یوں بھی سنوار آئے
کہ ہر دور چمن اہل چمن کو سازگار آئے
بہ قید ہوش اس دنیا میں دم لینا بھی مشکل تھا
مگر ہم بے خودیٔ شوق میں کچھ دن گزار آئے
محبت زندگی ہے زندگی کا نام دنیا ہے
محبت سازگار آئے تو دنیا سازگار آئے
وفور بے خودیٔ عشق میں ایسا بھی وقت آیا
وہ دل میں تھے مگر ہم دور تک ان کو پکار آئے
ہوا جب رخ بدلتی ہے تو جوش ایسا بھی ہوتا ہے
کہیں سے کارواں گزرے کہیں اڑ کر غبار آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.