ہم سے مل کر جو ہم جیسے ہوتے ہیں
ہم سے مل کر جو ہم جیسے ہوتے ہیں
اصل میں کب وہ لوگ ہمارے ہوتے ہیں
جانے کس دن کوزہ گر یہ سمجھے گا
خاک کے بھی کچھ اپنے سپنے ہوتے ہیں
آنکھوں کو بینائی چبھنے لگتی ہے
دنیا میں کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں
خود سے اتنی دوری رکھنا ٹھیک نہیں
وسعت سے تو دریا اتھلے ہوتے ہیں
ان کے بچھڑنے کا دکھ کم ہی ہوتا ہے
جو نظروں سے اتر کے بچھڑے ہوتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.