سانس لینے کو ہی جو زندگی سمجھتے ہیں
سانس لینے کو ہی جو زندگی سمجھتے ہیں
آج کل کے لوگوں کی بے بسی سمجھتے ہیں
آپ بیتی ہے میری کون یہ سمجھتا ہے
لوگ دل کے چھالوں کو شاعری سمجھتے ہیں
دل کیا جفائیں کیں دل کیا وفائیں کیں
عشق کرنے کو بھی وہ نوکری سمجھتے ہیں
یار اب امانت ہے اور ہی کسی کی وہ
یار ہم جسے اپنی زندگی سمجھتے ہیں
نام بھی مٹا ڈالا جا تجھے بھلا ڈالا
آج سے تجھے ہم بھی اجنبی سمجھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.