دھوپ میں سایا تو برسات میں چھتری نہ ملی
دھوپ میں سایا تو برسات میں چھتری نہ ملی
ہم ہیں مزدور ہمیں وقت پہ روٹی نہ ملی
مشورے سب نے دیے کوئی سہارا نہ بنا
ناخدا لاکھ ملے ایک بھی کشتی نہ ملی
میرا کمرا نہیں اک پیکر تنہائی ہے
تانکتے جھانکتے رہنے کو بھی کھڑکی نہ ملی
بے بسی کیا ہے کوئی پوچھ لے جا کر اس سے
جس کو پنکھا تو میسر تھا پہ رسی نہ ملی
تم کسی بزم میں ہو جیسے خصوصی میہماں
ہم وہ احقر جسے تشریف کو کرسی نہ ملی
کیسے کرتا میں وہاں درد کا شکوہ کاشفؔ
جہاں رستے ہوئے زخموں کو بھی پٹی نہ ملی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.