Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دھوپ میں سایا تو برسات میں چھتری نہ ملی

کاشف بیگ کاشف

دھوپ میں سایا تو برسات میں چھتری نہ ملی

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    دھوپ میں سایا تو برسات میں چھتری نہ ملی

    ہم ہیں مزدور ہمیں وقت پہ روٹی نہ ملی

    مشورے سب نے دیے کوئی سہارا نہ بنا

    ناخدا لاکھ ملے ایک بھی کشتی نہ ملی

    میرا کمرا نہیں اک پیکر تنہائی ہے

    تانکتے جھانکتے رہنے کو بھی کھڑکی نہ ملی

    بے بسی کیا ہے کوئی پوچھ لے جا کر اس سے

    جس کو پنکھا تو میسر تھا پہ رسی نہ ملی

    تم کسی بزم میں ہو جیسے خصوصی میہماں

    ہم وہ احقر جسے تشریف کو کرسی نہ ملی

    کیسے کرتا میں وہاں درد کا شکوہ کاشفؔ

    جہاں رستے ہوئے زخموں کو بھی پٹی نہ ملی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے