برسوں پرانا دوست ملا جمنا جیسے غیر ہو
برسوں پرانا دوست ملا جمنا جیسے غیر ہو
دیکھا رکا جھجھک کے کہا تم عمیرؔ ہو
ملتے ہیں مشکلوں سے یہاں ہم خیال لوگ
تیرے تمام چاہنے والوں کی خیر ہو
کمرے میں سگریٹوں کا دھواں اور تری مہک
جیسے شدید دھند میں باغوں کی سیر ہو
اک حادثہ ہو اور اچانک اٹھائے جائیں
جب بھی ہو اختتام ہمارا بخیر ہو
ہم مطمئن بہت ہیں اگر خوش نہیں بھی ہیں
تم خوش ہو کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہو
پیروں میں اس کے سر کو دھریں التجا کریں
اک التجا کہ جس کا نہ سر ہو نہ پیر ہو
کچھ تو ہو درمیان بچھڑنے کے بعد بھی
کچھ بھی بھلے قلق ہو شکایت ہو بیر ہو
Aakhiri Tasveer
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.