تیرے شہر رنگ و بو میں خوف بھی کچھ کم نہیں
تیرے شہر رنگ و بو میں خوف بھی کچھ کم نہیں
چھتریاں ہاتھوں میں ہیں بارش کا جب موسم نہیں
تیرے در سے پا رہے ہیں وہ مسیحا کا خطاب
جن کے ہاتھوں میں نمک ہے زخم کا مرہم نہیں
جنگ نامہ لکھنے والو نام کیا دو گے ہمیں
لڑ رہے ہیں زندگی سے ہاتھ میں پرچم نہیں
جانتے ہیں آنسوؤں کی قدر و قیمت خوب ہم
دل میں ہے موجوں کی شورش آنکھ پھر بھی نم نہیں
یوں تو ہے موجود سورج پھر بھی یہ اندھیر کیا
نیند ہے کرنوں پہ طاری صبح کا عالم نہیں
خوشبوؤں کی طرح گزرو بے خطر بڑھتے چلو
یہ دلوں کے راستے ہیں ان میں پیچ و خم نہیں
اک حیات نو چھپی ہے کربلا کی راہ میں
کربلا راہ عمل ہے منزل ماتم نہیں
شعریت ملتی نہیں اب تیرے شعروں میں علیؔ
رک گئی ہیں سوئیاں تیری گھڑی میں دم نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.