صبا بھی جانب زنداں اداس آتی ہے
صبا بھی جانب زنداں اداس آتی ہے
یہاں بہار نہیں بوئے یاس آتی ہے
ہماری بات تو لگتی ہے سب کو افسانہ
تمہاری چپ بھی زمانے کو راس آتی ہے
تمہاری یاد کی خوشبو مہکتے آنچل سی
ہوا کا ہاتھ پکڑ کر کے پاس آتی ہے
وہ لوٹ لیتی ہے آ کر سکون قلب و نظر
کبھی وہ بن کے مری غم شناس آتی ہے
مرے رفیقوں کی نفرت بھی آج کل دیکھو
پہن کے جھوٹی ہنسی کا لباس آتی ہے
یہ اس کے لمس مسیحا کا ہے اثر راویؔ
وگرنہ لفظ میں ایسی مٹھاس آتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.