غم کی تصویر بہت دیر سے دھندلائی ہے
غم کی تصویر بہت دیر سے دھندلائی ہے
لے کے خوشیوں کی خبر باد صبا آئی ہے
کر کے رسوا مجھے مسند پہ بٹھانے والو
یہ پذیرائی بھی کیا خاک پذیرائی ہے
دل خستہ تری قربت کا طلبگار نہیں
دل خستہ تری چاہت کا تمنائی ہے
معذرت ہم سے سیاست تو نہیں ہو سکتی
ہم نے سچ بولتے رہنے کی قسم کھائی ہے
مجھ کو روتے ہوئے دیکھا تو ہنسی چھوٹ گئی
تو بھی دنیا کی طرح میرا تماشائی ہے
اب نہ وحشت میں کہیں پھوڑ لوں آنکھیں اپنی
خواب دیکھا ہے جو آنکھوں نے وہ صحرائی ہے
جانے اب کس کی نظر کا یہ اثر ہے اظہرؔ
نہ تو خوشبو ہے چمن میں نہ ہی رعنائی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.