گھٹن اضافی ہے آب و ہوا اضافی ہے
گھٹن اضافی ہے آب و ہوا اضافی ہے
حسین چہرے پہ تل کا دیا اضافی ہے
کہیں کہیں پہ نشاں ہیں تمہارے ہونٹوں کے
کہیں کہیں سے بدن بے بہا اضافی ہے
بچھڑ کے تجھ سے جو خود پر کبھی لگایا تھا
ہمارے پاس وہی قہقہہ اضافی ہے
قسم خدا کی ہے میں آج تک اکیلا ہوں
قسم خدا کی زمیں پر خدا اضافی ہے
ہمارے ہاتھ لکیروں سے کتنے خالی ہیں
تمہارے پاس کوئی بد دعا اضافی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.