گزرتی عمر ہے یوں دور آسمانی میں
گزرتی عمر ہے یوں دور آسمانی میں
کہ جیسے جائے کوئی کشتئ دخانی میں
رکاؤ خوب نہیں طبع کی روانی میں
کہ بو فساد کی آتی ہے بند پانی میں
کہانیاں ہیں حکایات خضر و آب بقا
بقا کا ذکر ہے کیا اس جہان فانی میں
نہیں خضاب سے مطلب ہمیں یہ موئے سفید
سیاہ پوش ہوئے ماتم جوانی میں
وہ سیدھے گھر کو سدھارے اور ان کی کھوج میں ہم
پھرے بھٹکتے ہوئے کوئے بد گمانی میں
ہمیشہ ہے مجھے سرمایۂ بقا میں بقا
حباب وار ہوں میں آب زندگانی میں
بجز نثار علی شاہ کون جانے ذوقؔ
تری زباں کا مزا تیری شعر خوانی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.