Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گزرتی عمر ہے یوں دور آسمانی میں

شیخ ابراہیم ذوقؔ

گزرتی عمر ہے یوں دور آسمانی میں

شیخ ابراہیم ذوقؔ

MORE BYشیخ ابراہیم ذوقؔ

    گزرتی عمر ہے یوں دور آسمانی میں

    کہ جیسے جائے کوئی کشتئ دخانی میں

    رکاؤ خوب نہیں طبع کی روانی میں

    کہ بو فساد کی آتی ہے بند پانی میں

    کہانیاں ہیں حکایات خضر و آب بقا

    بقا کا ذکر ہے کیا اس جہان فانی میں

    نہیں خضاب سے مطلب ہمیں یہ موئے سفید

    سیاہ پوش ہوئے ماتم جوانی میں

    وہ سیدھے گھر کو سدھارے اور ان کی کھوج میں ہم

    پھرے بھٹکتے ہوئے کوئے بد گمانی میں

    ہمیشہ ہے مجھے سرمایۂ بقا میں بقا

    حباب وار ہوں میں آب زندگانی میں

    بجز نثار علی شاہ کون جانے ذوقؔ

    تری زباں کا مزا تیری شعر خوانی میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے