ہرے ہوئے مرے رستے میں آنے والے بھی
ہرے ہوئے مرے رستے میں آنے والے بھی
یونہی الجھتے نہیں ہیں زمانے والے بھی
فقیر ہی تمہیں آگے کی رہ دکھائیں گے
یہ ملنے والے بھی ہیں اور ملانے والے بھی
یہ جسم ویسے بھی مٹی کا رزق بننا تھا
غلط نہیں ہیں تجھے کاٹ کھانے والے بھی
پلٹ گئے تو مسیحا شمار ہونے لگے
اک آدھ بار تجھے دیکھ جانے والے بھی
رکھے ہوئے تھے سیاست کی میز پر حارثؔ
وطن کے باغی بھی اور جاں لٹانے والے بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.