وہ میری عیادت پر تیار نظر آئے
وہ میری عیادت پر تیار نظر آئے
صد شکر کہ صحت کے آثار نظر آئے
آئینۂ حیرت ہے یہ اجڑی ہوئی وادی
جس سمت نظر اٹھی معمار نظر آئے
میدان سیاست میں یہ گر ہی تو سب کچھ ہے
انکار کرو ایسے اقرار نظر آئے
جو کہتے تھے گلشن کو ہم خون سے سینچیں گے
سچ کہتے تھے جب جیتے خوں خوار نظر آئے
کیا خاک شفا ہوگی جب کوئی طبیب آیا
رخ سوئے عدم کرتے بیمار نظر آئے
اللہ کے اور بندوں کے بیچ میں حائل ہیں
ضامنؔ ہمیں کچھ ایسے دیں دار نظر آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.