شعلۂ درد ہے کہ نغمہ ساز
شعلۂ درد ہے کہ نغمہ ساز
زندگی کا ہے کون سا انداز
میں کہ ہوں اک فسون خاموشی
تو کہ ہے ایک شعلۂ آواز
ساز سب تیرے ہم نوا و رفیق
بانسری کی فغاں مری دم ساز
درد کے سلسلے تمنائیں
حسن کب ہو سکا حریف نیاز
ق
گیت کم تر لبوں پہ آئے ہیں
گو مسلسل رہا ہے دل کو گداز
کبھی ناکامیٔ تمنا سے
ٹوٹ کر رہ گئی مری آواز
کبھی کانوں کی اجنبیت سے
تھرتھراتا رہا خیال کا ساز
ق
پیکر رنگ ہے گلاب کا پھول
میرے دل کے لیے پر پرواز
اعتبار فسون رنگ سے ہے
میری تخئیل مائل تگ و تاز
انتظار شکست رنگ سے ہے
میری آنکھوں میں اک خرابۂ ناز
ہر نظر میں حقیقتوں کا لباس
ہر ادا میں فسون رنگ مجاز
ق
حسن پر جو نگاہ پڑتی ہے
ساتھ لاتی ہے اک نیا انداز
جیسے تار نگاہ کی گردش
گاہ پردہ ہے گاہ پردۂ ساز
کبھی ہر روشنی ترا نیرنگ
کبھی ہر ساحری مرا انداز
شہر کے سب نگار خانوں میں
ڈھونڈھتا ہوں جو ایک خاکۂ ناز
نقش سارے الجھنے لگتے ہیں
نکھر آتا ہے جب ترا انداز
یہ بھی اچھا ہوا کہ صورت گر
سننے پائے نہ وہ فسانۂ ناز
میری بزم خیال و گوش میں جو
تھرتھراتا ہے مثل پردۂ ساز
التفات نگاہ سے جابرؔ
آج کھل کر ہوا نوا پرداز
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.