Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شعلۂ درد ہے کہ نغمہ ساز

جابر علی سید

شعلۂ درد ہے کہ نغمہ ساز

جابر علی سید

MORE BYجابر علی سید

    شعلۂ درد ہے کہ نغمہ ساز

    زندگی کا ہے کون سا انداز

    میں کہ ہوں اک فسون خاموشی

    تو کہ ہے ایک شعلۂ آواز

    ساز سب تیرے ہم نوا و رفیق

    بانسری کی فغاں مری دم ساز

    درد کے سلسلے تمنائیں

    حسن کب ہو سکا حریف نیاز

    ق

    گیت کم تر لبوں پہ آئے ہیں

    گو مسلسل رہا ہے دل کو گداز

    کبھی ناکامیٔ تمنا سے

    ٹوٹ کر رہ گئی مری آواز

    کبھی کانوں کی اجنبیت سے

    تھرتھراتا رہا خیال کا ساز

    ق

    پیکر رنگ ہے گلاب کا پھول

    میرے دل کے لیے پر پرواز

    اعتبار فسون رنگ سے ہے

    میری تخئیل مائل تگ و تاز

    انتظار شکست رنگ سے ہے

    میری آنکھوں میں اک خرابۂ ناز

    ہر نظر میں حقیقتوں کا لباس

    ہر ادا میں فسون رنگ مجاز

    ق

    حسن پر جو نگاہ پڑتی ہے

    ساتھ لاتی ہے اک نیا انداز

    جیسے تار نگاہ کی گردش

    گاہ پردہ ہے گاہ پردۂ ساز

    کبھی ہر روشنی ترا نیرنگ

    کبھی ہر ساحری مرا انداز

    شہر کے سب نگار خانوں میں

    ڈھونڈھتا ہوں جو ایک خاکۂ ناز

    نقش سارے الجھنے لگتے ہیں

    نکھر آتا ہے جب ترا انداز

    یہ بھی اچھا ہوا کہ صورت گر

    سننے پائے نہ وہ فسانۂ ناز

    میری بزم خیال و گوش میں جو

    تھرتھراتا ہے مثل پردۂ ساز

    التفات نگاہ سے جابرؔ

    آج کھل کر ہوا نوا پرداز

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے