جب بھی نیزے کی انی چھوتا تھا یہ سر بابا
جب بھی نیزے کی انی چھوتا تھا یہ سر بابا
عرش لاہوت پہ ہلتے تھے کوئی پر بابا
خاک کی نذر ہوئے خون کا مقصود ہوئے
تیرے ماہتاب مرے سرو و صنوبر بابا
میں نے تلوار چلائی تو امڈ آیا تھا
کل عناصر کے رگ و پے میں وہی ڈر بابا
مہلتیں اور عطا کرنی تھیں شر زادوں کو
یعنی انگشت سے کرنے تھے فروتر بابا
میں نے جو پھول رہ عشق میں تمہید کیے
ایک سے ایک تھے خوش رنگ و معطر بابا
اسپ کی ٹاپ تو ساحل کی ہی مہمیز پہ تھی
آگے پانی کا بھی ہوتا ہے مقدر بابا
کوئی سجدہ تھا جو تجسیم ہوا چاہتا تھا
میں نے ریتی پہ کیا اس کو مکرر بابا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.