Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب بھی نیزے کی انی چھوتا تھا یہ سر بابا

ماہ نور رانا

جب بھی نیزے کی انی چھوتا تھا یہ سر بابا

ماہ نور رانا

MORE BYماہ نور رانا

    جب بھی نیزے کی انی چھوتا تھا یہ سر بابا

    عرش لاہوت پہ ہلتے تھے کوئی پر بابا

    خاک کی نذر ہوئے خون کا مقصود ہوئے

    تیرے ماہتاب مرے سرو و صنوبر بابا

    میں نے تلوار چلائی تو امڈ آیا تھا

    کل عناصر کے رگ و پے میں وہی ڈر بابا

    مہلتیں اور عطا کرنی تھیں شر زادوں کو

    یعنی انگشت سے کرنے تھے فروتر بابا

    میں نے جو پھول رہ عشق میں تمہید کیے

    ایک سے ایک تھے خوش رنگ و معطر بابا

    اسپ کی ٹاپ تو ساحل کی ہی مہمیز پہ تھی

    آگے پانی کا بھی ہوتا ہے مقدر بابا

    کوئی سجدہ تھا جو تجسیم ہوا چاہتا تھا

    میں نے ریتی پہ کیا اس کو مکرر بابا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے