اسے ہر رخ سے توڑا جا رہا ہے
اسے ہر رخ سے توڑا جا رہا ہے
مگر آئینہ ہنستا جا رہا ہے
ہم اپنے آپ میں سورج ہیں پھر بھی
اندھیرا ہم میں ڈھونڈا جا رہا ہے
اسے ہم نے ذرا سا بھر دیا کیا
یہ ساغر تو چھلکتا جا رہا ہے
ترے چہرے میں ایسا کیا ہے آخر
جسے برسوں سے دیکھا جا رہا ہے
جہاں تک مجھ سے مطلب ہے جہاں کو
وہیں تک مجھ کو پوچھا جا رہا ہے
زمانے پر بھروسہ کرنے والو
بھروسے کا زمانہ جا رہا ہے
نجابت جس کو چھو کر بھی نہ گزری
اسے سید بتایا جا رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.