پلنگ پر افق کے کروٹیں بدل رہی ہے رات
پلنگ پر افق کے کروٹیں بدل رہی ہے رات
فلک فلک اندھیرا نور میں بدل رہی ہے رات
یہ چاند تارے بھی چلے ہیں ساتھ اس کے دور تک
زمین کی حدود سے کہاں نکل رہی ہے رات
نہ جانے کون سا فریب کل دیا تھا پھول نے
صبا کے دست ناز پر ابھی پگھل رہی ہے رات
ابھی جبین صبح پر ہے گرم دست ماہتاب
ابھی بھی آتش فلک پہ کچھ ابل رہی ہے رات
بھٹک گئی ہے شب ستاروں کے فریب رقص میں
قمر کے دامن شباب پر ٹہل رہی ہے رات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.