چاہتے ہو کہ اندھیروں کا یہاں دم نہ رہے
چاہتے ہو کہ اندھیروں کا یہاں دم نہ رہے
شمع پھر ایسی جلاؤ کہ ضیا کم نہ رہے
یاد آئیں گی بہت تم کو ہماری باتیں
دوستو درمیاں اک روز اگر ہم نہ رہے
اور کچھ ہم کو زمانے سے ملا یا نہ ملا
دوستوں کے مگر اکرام کبھی کم نہ رہے
ایسا ماحول بناؤ اے مرے ہم نفسو
غم کسی دل میں کسی آنکھ میں شبنم نہ رہے
اس میں رنگت نہ لطافت نہ مہک پاؤ گے
عارض گل پہ اگر قطرۂ شبنم نہ رہے
صبح نو كا نہ تجسس کبھی ہو گا اے نورؔ
زندگی میں اگر انساں کی شب غم نہ رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.