بن ملے ان سے گزارا نہیں ہونے والا
بن ملے ان سے گزارا نہیں ہونے والا
دل کے زخموں کا مداوا نہیں ہونے والا
مل کے کچھ تو یہاں کرنا ہی پڑے گا ہم کو
خالی باتوں سے اجالا نہیں ہونے والا
کر کے وعدے وہ مکرتا ہی رہا ہے اکثر
اس کے وعدوں پہ بھروسہ نہیں ہونے والا
کوئی تنہائی میں کیوں ایسے پکارے تجھ کو
تو کسی کا بھی سہارا نہیں ہونے والا
تو نے الزام دئے اتنے کہ لگتا ہے یوں
اب کبھی میرا زمانہ نہیں ہونے والا
گھر میں بیٹھے ہیں ابھی بند اندھیروں میں سبھی
یہ نہ سوچیں کہ سویرا نہیں ہونے والا
آسماں میں ہوں بھلے لاکھوں ہی تارے لیکن
کوئی بھی میرا ستارا نہیں ہونے والا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.