پہلے تو خوب ہنس کے سراہا گیا مجھے
پہلے تو خوب ہنس کے سراہا گیا مجھے
پھر بے رخی کے وار سے مارا گیا مجھے
میری وفا پہ ان کو نہیں پھر بھی اعتبار
پہنچا وہیں جہاں سے پکارا گیا مجھے
سمجھا نہیں میں عشق و محبت کے پیچ و خم
اس حسن سادگی سے ستایا گیا مجھے
زنجیریں ٹوٹتی گئیں خوف و ہراس کی
جتنا خباثتوں سے ڈرایا گیا مجھے
دے کر کے اک شرف مجھے انساں کا دہر میں
کتنے ہی امتحاں سے گزارا گیا مجھے
دعوے دلیل کر دیے منصف نے مسترد
یک طرفہ فیصلہ وہ سنایا گیا مجھے
ارشادؔ اس جہاں میں جب اک پل سکوں نہیں
پھر کس لیے زمیں پے اتارا گیا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.