زمیں کے ساتھ بھی رہتا تھا رابطہ میرا
زمیں کے ساتھ بھی رہتا تھا رابطہ میرا
یہ اور بات کہ محور رہا جدا میرا
کسی حسین شرارت کی اوٹ میں رک کر
مجھے پکارنے لگتا ہے بچپنا میرا
میں بہرہ ور ہوا خود آگہی کی دولت سے
کہ میری سمت ہی رہتا تھا آئنہ میرا
تو مجھ سے بھاگ کہ رسی دراز ہے تیری
کھنچا ہوا ہے جہانوں پہ دائرہ میرا
مرے عدو ذرا ہشیار ہو کے روک مجھے
کہ تیری جاں سے گزرتا ہے راستہ میرا
بھنور میں چھوڑ دیا گرچہ نا خدا نے ظہیرؔ
نہ دیکھ پائے گا لیکن وہ ڈوبنا میرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.