زمانے کا یقیناً آئنہ ہوں
زمانے کا یقیناً آئنہ ہوں
حقیقت اس لیے دکھلا رہا ہوں
نہ مقتل ہے نہ قاتل ہے مگر میں
مسلسل قتل ہوتا جا رہا ہوں
سبب کیا ہے مری بے چینیوں کا
نہ جانے آج کیوں گھبرا رہا ہوں
مری بربادیوں پر ہنسنے والے
بہت نادان ہیں میں جانتا ہوں
کوئی آئینہ میری ذات کا ہے
کسی کی ذات کا میں آئنہ ہوں
بہت آئے گئے دنیا میں اخترؔ
جو کہتے تھے کہ میں ہی تو خدا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.