نور ہی نور بھر گیا مجھ میں
نور ہی نور بھر گیا مجھ میں
اک ستارہ اتر گیا مجھ میں
اس قدر زور کا چھناکا ہوا
کوئی خوش عکس ڈر گیا مجھ میں
یوں زمانے نے گھور کر دیکھا
ایک بچہ سدھر گیا مجھ میں
میں اسے آزمانے والی تھی
وہ جو لمحہ مکر گیا مجھ میں
کتنے سکے تھے اس کے کاسے میں
کیا کوئی در بدر گیا مجھ میں؟
آئنہ نصب کر دیا میں نے
پھر وہ کیا کیا سنور گیا مجھ میں
خاک اڑانے کو جی کیا مہنازؔ
اور رستہ ٹھہر گیا مجھ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.