مجھے بھی عشق کرنا چاہیئے تھا
مجھے بھی عشق کرنا چاہیئے تھا
ہے دریا تو اترنا چاہیئے تھا
کسی کا عکس رکھ کر آئنے میں
کبھی سجنا سنورنا چاہیئے تھا
اگر ملنا تھا مجھ کو زندگی سے
تو پھر اک روز مرنا چاہیئے تھا
زمانے میں ہمارا نام ہوتا
کبھی حد سے گزرنا چاہیئے تھا
میں اس کے جسم پر ہی تیر پایا
مجھے دل میں اترنا چاہیئے تھا
اگر مجھ سے محبت ہی نہیں تھی
تو وعدے سے مکرنا چاہیئے تھا
خدا کا خوف ہے گلشنؔ ضروری
زمانے سے بھی ڈرنا چاہیئے تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.