اک خواب رائیگاں کو سجانے نکل گئے
اک خواب رائیگاں کو سجانے نکل گئے
ہم بھی ہوا پہ نقش بنانے نکل گئے
آنکھوں کے آئنے میں لکھی تھیں اداسیاں
ہم مسکرا کے ان کو چھپانے نکل گئے
دیوار دل پہ اس کا جو سایہ سا نقش تھا
ہم خون دل سے نقش مٹانے نکل گئے
اس دل کی تشنگی کا بھلا کیا علاج ہو
ہم آنسوؤں سے پیاس بجھانے نکل گئے
جب کوئی راز داں نہ ملا شہر درد میں
ہم پتھروں کو درد سنانے نکل گئے
خوابوں کی وادیوں میں تھی اک خلق بے خبر
ہم شور کر کے سب کو جگانے نکل گئے
عادت سی قیسؔ ہو گئی ہم کو بھی عشق کی
ہم اپنی کائنات لٹانے نکل گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.