ہم اس بستی میں اکثر آئنے لے کر نکلتے ہیں
ہم اس بستی میں اکثر آئنے لے کر نکلتے ہیں
کہ تہہ در تہہ زمینوں سے جہاں پتھر نکلتے ہیں
اندھیروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والو
اندھیروں سے ہمیشہ صبح کے منظر نکلتے ہیں
ہمیں معلوم ہے کب لو بھڑکتی ہے چراغوں کی
ہمیں معلوم ہے کب چیونٹیوں کے پر نکلتے ہیں
گھٹن محسوس کرتے ہیں مرے جذبات جب مجھ میں
غزل بن کر حصار جسم سے باہر نکلتے ہیں
ہنر مندی کا دعویٰ مت کرو ساحلؔ کہ دنیا میں
جنہیں کچھ بھی نہیں آتا وہ سب کچھ کر نکلتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.