Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہم اس بستی میں اکثر آئنے لے کر نکلتے ہیں

ساحل سحری

ہم اس بستی میں اکثر آئنے لے کر نکلتے ہیں

ساحل سحری

MORE BYساحل سحری

    ہم اس بستی میں اکثر آئنے لے کر نکلتے ہیں

    کہ تہہ در تہہ زمینوں سے جہاں پتھر نکلتے ہیں

    اندھیروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والو

    اندھیروں سے ہمیشہ صبح کے منظر نکلتے ہیں

    ہمیں معلوم ہے کب لو بھڑکتی ہے چراغوں کی

    ہمیں معلوم ہے کب چیونٹیوں کے پر نکلتے ہیں

    گھٹن محسوس کرتے ہیں مرے جذبات جب مجھ میں

    غزل بن کر حصار جسم سے باہر نکلتے ہیں

    ہنر مندی کا دعویٰ مت کرو ساحلؔ کہ دنیا میں

    جنہیں کچھ بھی نہیں آتا وہ سب کچھ کر نکلتے ہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے