اکتا گئے کچھ ایسے دل لخت لخت سے
اکتا گئے کچھ ایسے دل لخت لخت سے
بیٹھے ہیں خانقاہ پہ مردہ پرست سے
پریوں کے دیس اور طلسمی چراغ کا
شاید پتہ ملے کسی آزاد بخت سے
گلیوں سے پہرے دار کی آنے لگی صدا
شہروں میں آ گئے ہیں کہاں لوگ دشت سے
دیوار چاٹنے کی سزا ہم پہ آ پڑی
معدوم ہو گئے ہیں مگر لوگ پست سے
اظہرؔ میں جنگلوں میں بھٹکتا رہا مگر
کوئی صدا نہ آئی کسی بھی درخت سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.