Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں اتنا عام ہوا اتنا عام دنیا میں

ثقلین مشتاق

میں اتنا عام ہوا اتنا عام دنیا میں

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    میں اتنا عام ہوا اتنا عام دنیا میں

    کہ یونہی بنتا گیا میرا نام دنیا میں

    مرے علاوہ کوئی اور بھی تڑپتا ہے

    گزارتے ہوئے تنہا یہ شام دنیا میں

    میں جان بوجھ کے کہتا ہوں ٹھیک ہے سب کچھ

    وگرنہ ٹھیک کہاں ہے نظام دنیا میں

    اے میرے خواب بہت تیز چل رہے ہو تم

    بتا کہ کیسے تجھے دوں لگام دنیا میں

    جنون عشق تو دیکھو کہ نام کے بدلے

    لکھا ہے خط میں تمہارا غلام دنیا میں

    وہاں بہشت میں ممکن نہیں ملے ہم کو

    تری نظر نے پلایا جو جام دنیا میں

    پہاڑ پیڑ پرندے گلاب میں اور تم

    خدا نے خوب کیا اہتمام دنیا میں

    اتار دو ابھی زنجیر عشق کو مشتاقؔ

    بہت سے اور بھی کرنے ہیں کام دنیا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے