لکھنے ہیں ابھی مرثیہ ہائے دل و جاں اور
لکھنے ہیں ابھی مرثیہ ہائے دل و جاں اور
کچھ زخم مجھے اے مرے مرہم نظراں اور
اتنا ہی کہ بس نغمہ سرایان جہاں ہیں
ملتا نہیں کچھ اس کے سوا اپنا نشاں اور
کھینچے ہے مری طبع سخن اپنی ہی جانب
اور گردش دوراں ہے کہ دکھلائے سماں اور
کچھ نذر ہوئے وقت کی بے رحم ہوا کے
کچھ خواب ابھی میرے لہو میں ہیں رواں اور
ہر لحظہ میں آزادئ جاں کا تھا طلب گار
ہر گام پڑی پاؤں میں زنجیر گراں اور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.