خواب کی کرچی میں تصویر پڑی ہے میری
خواب کی کرچی میں تصویر پڑی ہے میری
مجھ سے پوچھو تو یہ آخیر پڑی ہے میری
میں کبھی وقت پہ پہنچی نہیں خود سے ملنے
پیش پا کچھ نہیں تاخیر پڑی ہے میری
آسمانوں کی طرف اڑتا ہوا دیکھ مجھے
ٹوٹی پھوٹی ہوئی زنجیر پڑی ہے میری
مجھ کو بتلا دیا قدرت نے ارادہ اپنا
راکھ کے ڈھیر میں تعمیر پڑی ہے میری
لے گئی انگلی پکڑ کر مجھے بیمارئ دل
اور مری جیب میں اکسیر پڑی ہے میری
میں اڑوں گی تو مری راہ کھلے گی مہنازؔ
پر خواہش میں ہی تنویر پڑی ہے میری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.