طبع جنوں سرشت ہی کچھ حیلہ جو نہ تھی
طبع جنوں سرشت ہی کچھ حیلہ جو نہ تھی
توفیق ضبط تھی کہ مجال رفو نہ تھی
آخر کبھی تو جرعہ صہبائے لطف بھی
مے سے فقط مراد مئے آرزو نہ تھی
وہ وضع خامشی کا زباں آشنا نہ تھا
اظہار اپنے نطق تمنا کی خو نہ تھی
اتنا شدید قحط مروت کبھی نہ تھا
ناموس درد یوں کبھی بے آبرو نہ تھی
جذبوں کا خوں الگ تھا بچھڑنے کا دکھ الگ
شام فراق دل کو اذیت دوگونہ تھی
پھر شاخ دل پہ کھل نہ سکے خواہشوں کے پھول
اس دشت بے گیاہ میں تاب نمو نہ تھی
گوہرؔ غزل کہی پئے تقریب عرض غم
اس کم سخن سے اور رہ گفتگو نہ تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.