ردائے مے میں نہاں مثل رنگ مینا ہوں
ردائے مے میں نہاں مثل رنگ مینا ہوں
میں تیرا آئنہ بن کر خود اپنا پردہ ہوں
تری نظر کی کم آمیزیوں سے نکھرا ہوں
میں تشنگی کے نشے سے بھی جھوم اٹھتا ہوں
کدھر کو لے کے چلے گفتگو کے موڑ مجھے
میں تیرے قرب میں بھی دوریوں سے ڈرتا ہوں
طلسم شوق سے نکلوں تو پھر بتاؤں گا
تری طلب کا سمن زار ہوں کہ صحرا ہوں
سنی ہے ہر جرس غنچہ سے تری آواز
تلاش گوہر خوشبو میں جب بھی نکلا ہوں
تری ضیا سے جلاتا ہوں مشعل مہتاب
میں جب زمان و مکاں ساتھ لے کے چلتا ہوں
نہ جانے کون سی شب تیرا نقش پا چمکائے
ہر ایک شام طرب زار دل سجاتا ہوں
فضا میں جو تری تصویر بن کے پھیلا تھا
سکوت شب میں وہی گیت بن کے گونجا ہوں
بنا گیا ترے دامن کو جو ردائے سحر
فضائے شوق کا وہ ڈوبتا ستارا ہوں
میں آج توڑ کے زنجیر آرزو صادقؔ
صبا کے ساتھ کہیں دور جانے والا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.