نظارے لطف و خوشی کے تو بے شمار ملے
نظارے لطف و خوشی کے تو بے شمار ملے
یہ آرزو ہی رہی دل کو کچھ قرار ملے
خوشی کی بزم میں کیوں لوگ اشک بار ملے
کھلے یہ راز تو مجھ کو بھی کچھ قرار ملے
اگر ہمارے عدو ایک دو ہیں تو غم کیا
قدم قدم پہ ہمیں دوست جاں نثار ملے
کچھ ایسے لوگ بھی اپنے قریب رہتے ہیں
کہ جن سے دل نہ ملا ہاتھ بار بار ملے
بچھڑ گیا ہوں میں جن سے بہ وجہ مجبوری
وہ پھر عزیز ملیں پھر وہی دیار ملے
خزاں رسیدہ چمن پر نگاہ کس کی اٹھی
یہاں تو جو بھی ملے طالب بہار ملے
سفر کے بعد میں لوٹوں تو یہ بھی ممکن ہے
کہ کوئی میرے لیے محو انتظار ملے
ہمارا حصہ تو گرد ملال ہے کاوشؔ
کہاں نصیب مسرت کا آبشار ملے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.