Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نظارے لطف و خوشی کے تو بے شمار ملے

کاوش کمال

نظارے لطف و خوشی کے تو بے شمار ملے

کاوش کمال

MORE BYکاوش کمال

    نظارے لطف و خوشی کے تو بے شمار ملے

    یہ آرزو ہی رہی دل کو کچھ قرار ملے

    خوشی کی بزم میں کیوں لوگ اشک بار ملے

    کھلے یہ راز تو مجھ کو بھی کچھ قرار ملے

    اگر ہمارے عدو ایک دو ہیں تو غم کیا

    قدم قدم پہ ہمیں دوست جاں نثار ملے

    کچھ ایسے لوگ بھی اپنے قریب رہتے ہیں

    کہ جن سے دل نہ ملا ہاتھ بار بار ملے

    بچھڑ گیا ہوں میں جن سے بہ وجہ مجبوری

    وہ پھر عزیز ملیں پھر وہی دیار ملے

    خزاں رسیدہ چمن پر نگاہ کس کی اٹھی

    یہاں تو جو بھی ملے طالب بہار ملے

    سفر کے بعد میں لوٹوں تو یہ بھی ممکن ہے

    کہ کوئی میرے لیے محو انتظار ملے

    ہمارا حصہ تو گرد ملال ہے کاوشؔ

    کہاں نصیب مسرت کا آبشار ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے