Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہیں آبشار شراب کے کہیں سرخ فرش گلال کے

ثمینہ قمر

کہیں آبشار شراب کے کہیں سرخ فرش گلال کے

ثمینہ قمر

MORE BYثمینہ قمر

    کہیں آبشار شراب کے کہیں سرخ فرش گلال کے

    کہیں خوشبوئیں ہیں بخور کی کہیں گل کھلے ہیں کمال کے

    یہ مقام عشق کا ہے جہاں سبھی آرزوئیں تمام ہیں

    نہ خلش ہے اب کوئی ہجر کی نہ تو خواب ہی ہیں وصال کے

    تجھے کیا خبر کہ میں کس قدر تری سادگی کی اسیر ہوں

    مری شاعری میں بیاں ہیں بس ترے قصے حسن و جمال کے

    یہ عروج آج ملا ہے جو نہ میں بھول کر بھی بھلا سکی

    جو گزر گئے مری ذات پر وہی رات دن تھے زوال کے

    میں ہمیشہ ہی رہی راہ میں نہ ملیں کبھی مجھے منزلیں

    مرے ہم قدم رہے قافلے تری یاد تیرے خیال کے

    یہ چراغ غم کے بجھا بھی دو کہ نشاط صبح ہے آ گئی

    نہیں زیب دیں گے تمہیں قمرؔ یہ سیاہ رنگ ملال کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے