ہر گزرتا شخص غم آلودہ ہے
ہر گزرتا شخص غم آلودہ ہے
وو گلی کتنی ستم آلودہ ہے
لطف یکتائی ہے شب بھر اور پھر
ساے سے اپنے صنم آلودہ ہے
ثبت ہے ماتھے پہ زخم آرزو
اندھے سجدوں سے حرم آلودہ ہے
کیا اٹھائیں کچی امیدوں پہ گھر
حسن کی دیوار نم آلودہ ہے
آنکھ میں ایسا چبھا منظر کوئی
آج تک آہو یہ رم آلودہ ہے
کون آگے کون پیچھے رہ گیا
وسوسوں میں ہر قدم آلودہ ہے
کاتب تحریر حق کیسا ہے عونؔ
خون سے جس کا قلم آلودہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.