ابھی بنا بھی نہ تھا شمع دان کاغذ پر
ابھی بنا بھی نہ تھا شمع دان کاغذ پر
پتنگے آ گئے دینے کو جان کاغذ پر
مری لکھائی پہ مشکوک ہے اگر دنیا
تو آ کے لے لے مرا امتحان کاغذ پر
اٹھا غبار تعصب کئی لکیروں سے
بنا رہا تھا میں ہندوستان کاغذ پر
ذرا سی عمر میں اونچی اڑان بھرنے کو
بناتا رہتا ہے وہ آسمان کاغذ پر
لیا دیا ہوا دل میں حساب رکھتے ہیں
ہم اہل دل نہیں کرتے جڑان کاغذ پر
نعیمؔ ایک نئے شعر کے تجسس میں
کبھی کبھی تو کھنچ آتی ہے جان کاغذ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.