آرزو اتنی ہے جان آرزو
آرزو اتنی ہے جان آرزو
جستجو و جستجو و جستجو
ضبط غم سے تھی ہماری آبرو
اشک رک جائے ٹپکتا ہے لہو
ہم کو ذوق دید لے آیا کہاں
آئنہ ہم ہم نظر ہم روبرو
خامشی ہے گوش بر آواز کیوں
بام و در میں ہو رہی ہے گفتگو
منبر تلقین پر رند خراب
چڑھ گیا ہے ہاتھ میں لے کر سبو
بند ہو جائے تو کھل جاتی ہے آنکھ
دور سے آتی ہے پیراہن کی بو
ٹوٹ جاتی ہے کلی کھلتی نہیں
دامن گل ہو نہیں سکتا رفو
آنکھ ساجد آنکھ ہی مسجود ہے
خون دل سے آنکھ کرتی ہے وضو
کم نگاہی ہے حرم سے بدگماں
چشم بینا ہو تو کعبہ چار سو
بن کے افسانہ ترا جان بہار
پھر رہا ہے آج واصفؔ کو بہ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.