شب فراق کی تاریکیوں میں کھو جاؤں
شب فراق کی تاریکیوں میں کھو جاؤں
میں تیرے بعد کہیں لاپتہ نہ ہو جاؤں
چمک اٹھے مرے گریے سے مجلس ماتم
کہو تو فرش عزا آنسوؤں سے دھو جاؤں
یہ میری پلکوں سے چھنتی ہے جو شعاع امید
یہ روشنی میں تری آنکھ میں سمو جاؤں
وہ مجھ کو روک رہا تھا کسی کا ہونے سے
مگر یہ بول نہ پایا میں اس کی ہو جاؤں
تو چاند بن کے کبھی میری چھت پہ آیا نہیں
میں چاہتی تھی ترے بازوؤں میں سو جاؤں
تمام لوگ مرا تذکرہ کریں دن رات
دلوں میں بیج محبت کا ایسا بو جاؤں
کسی ستارے نے مجھ کو بچا لیا تھا عمودؔ
قریب تھا کہ میں اس تیرگی میں کھو جاؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.