روداد غم سنائی تو آنسو نکل پڑے
روداد غم سنائی تو آنسو نکل پڑے
دنیا سمجھ میں آئی تو آنسو نکل پڑے
اس شہر میں ہیں کتنی مسلط خموشیاں
آواز اک لگائی تو آنسو نکل پڑے
دیکھا تھا ہم نے رائی کو بنتے ہوئے پہاڑ
پربت ہوا جو رائی تو آنسو نکل پڑے
میں نے تمہارے واسطے سب کچھ لٹا دیا
کی تم نے بے وفائی تو آنسو نکل پڑے
غیروں نے ہر قدم پہ سہارا دیا مجھے
اپنوں سے چوٹ کھائی تو آنسو نکل پڑے
جس پہ کیا بھروسہ اسی نے دیا فریب
چاہت نہ راس آئی تو آنسو نکل پڑے
مضطرؔ سنا تھا بنتے ہیں اس بزم میں نصیب
تقدیر آزمائی تو آنسو نکل پڑے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.